آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ جوں ہی شام ہوئی اور مغرب کی اذان پورے حرم میں گونجنے لگ گئی تو حرم مطہر کے خادمین نقارہ خانہ میں پہنچنے لگ گئے تاکہ دیرینہ روایت کے مطابق نقاروں کی دھنوں سے ولادت کی خوشخبری ہر دل تک پہنچائی جائے سکے ۔
اچانک سے نقاروں کی آواز پورے حرم میں گونج اٹھی ،ایک ایسی آواز جو گویا فرشتوں کو رقص اور دلوں کو پرواز کی دعوت دے رہی تھی۔
زائرین و مجاورین آنکھوں میں شوق کے آنسو لئے اس مبارک رات کی امام زمانہ(عج) کو مولائے متقیان کو مبارک باد پیش کر رہے تھے ،لوبان اور نرگس کے پھولوں کی خوشبو اور صلوات کی آوازیں ملنے سے مشہد میں جنت کا سا ماحول بن رہا تھا۔
حرم کے کونے کونے میں رنگ برنگ برقی قمقمے،چمکتی روشنیاں اور دلکش پھولوں کی وجہ سے خوشیوں کا سماں تھا۔
اہلبیت اطہار(ع) کے ذاکرین اور منقبت خوانوں نے اپنے مسرت بخش قصیدوں اور منقبتوں سے ولائی جشن کی گرم جوشی کو دوبالا کر دیا تھا اور عاشقان اہلبیت کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔
یہ رت ایسی تھی جس میں نقاروں نے عشق کی داستان سنائی،دل ولایت سے جڑ گئے اور مشہد کے آسمان نے خوشی کا رنگ اوڑھ لیا۔