آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اس اجلاس میں جو حرم امام رضا(ع)کی مرکزی لائبریری کے اندیشہ ہال میں منعقد ہوا آرگنائزیشن آف لائبریریز، میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے سربراہ سمیت حرم رضوی کے خدام نے شرکت کی ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے بصرہ میں تعینات قونصلر جنرل علی عبادی نے اس اجلاس میں آنلائن شرکت کی اور شہدائے جنگ رمضان خصوصا شہید رہبر(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں عوام نے آیہ شریفہ «أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ» پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
بصرہ میں ایرانی قونصلر جنرل نے کہا کہ تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران مسلح افواج نے دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو شکست قبول کرنے پر مجبور کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران نے یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی پوری توانائی رکھتا ہے ۔
جناب عبادی نے کہا کہ جب خطے کی عوامی قوتوں نے جن میں عراقی شیعہ بھی شامل ہیں انہوں نے یہ صلاحیت اور طاقت دیکھی تو ایرانی عوام کی طرح وہ بھی متحرک ہوگئیں اور ہم نے دیکھا کہ عراق کے شہر ناصریہ میں لوگوں نے متحد ہو کر اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کا کھل کر اظہار کیا اور سامراجی اور غاصب صیہونی حکومت کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کئے ۔
انہوں نے کہا کہ آج اس جنگ کی بدولت دنیا میں محبوب ترین نام ایران اور محبوب ترین شخصیت حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای(رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) ہیں اور منفور ترین نام غاصب صیہونی حکومت اور امریکہ ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق کی غیور اور شریف عوام نے ناصریہ اور بصرہ جیسے شہروں میں ایران کی کھلم کھلا حمایت کی اور شہید رہبر معظم انقلاب کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس کا انعقاد کیا۔
دو ممالک کی عوام میں پائے جانے والے اشتراکات
اجلاس کے دوران بصرہ میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانےمیں ثقافتی نمائندے جناب علی رحیمی نے خطے میں اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے سرحدی صوبوں خاص طور پر خوزستان کی سرحد پر ثقافتی و مذہبی اور سماجی بہت زیادہ مشترکات پائے جاتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے انفارمیشن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے فیکلٹی رکن جناب علی اصغر محکی نے بھی اجلاس کے دوران ایران اور عراق کے ثقافتی اور تمدنی شعبوں کے روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق کا شہر بصرہ عراقی شیعوں کے اہم مراکز میں سے ایک ہے ۔
انہوں نے بصرہ کے عوام کی ثقافتی خصوصیات اور خاندانی رسومات کا جن میں مہمان نوازی وغیرہ شامل ہیں خاص طورپرذکر کیا