آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ؛ قومی قالین ڈے کی مناسبت سے مؤرخہ 9 جون2026 بروز منگل کو آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی اورمشہد مقدس میں اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن جہاد دانشگاہی کی کاوشوں سے ’’نقش آفرینی‘‘ کےعنوان سے خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ جس میں ایرانی قالین کی تاریخ اور اس فن کا اس سرزمین کی ثقافت اور تہذیب سے پائے جانے والے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید کارگر نے اس نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ہاتھ سے بنی قالینوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے قالین کی تاریخ، ثقافت اور فن سے وابستگی، قدمت اور پرانی روایت، جغرافیائی پھیلاو، نقش و نگار کے تنوع اور بنائی کے اسلوب اور استعمال کے تنوع جیسی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قالین داستان گوئی، قوموں کے درمیان ربط پیدا کرنے اور انسانی تعاملات کو بہتر بنانے کے لیے ایک مناسب ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنی قالینیں گھرانوں کی معیشت ،روزگار کی فراہمی اور زرمبادلہ کے حصول جیسے پہلوؤں سے بھی قابل توجہ ہے ۔
قالین شناسی تاریخی آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے
ڈاکٹر داود شادلو جو کہ یونیورسٹی آف آرٹ کے فیکلٹی رکن ہیں انہوں نے اس موقع پر ’’قالین شناسی کے تعارف‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قالین شناسی کے لئے تاریخی آگہی بہت ضروری ہے اور قالین شناسی ایک بین الضابطہ علم ہے جو مشرقی قالینوں کی تاریخ، فن، تکنیک، جغرافیہ، ثقافت، معاشرہ اور معیشت کے ساتھ وابستہ ہے۔
شیراز یونیورسٹی آف آرٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر نے قالین شناسی کی سب سے اہم رکاوٹوں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ طبعی نمونوں کی کمی، معتبر مقامی ذرائع کی قلت، قالین بافی کے زبانی علم کا خاتمہ، تاریخی آثار میں جعلسازی اور دھوکہ دہی اور نیز مارکیٹ میں مسلسل تبدیلیاں، قالین کی تاریخ پر تحقیق کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہی ہیں۔
قالین کے اس محقق نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں دنیا میں قالین شناسی کے مطالعات کی تشکیل کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالعات انیسویں صدی کے وسط سے مشرقی قالینوں کی طرف عام توجہ میں اضافے کے ساتھ شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ یونیورسٹی مکاتب فکر کی تشکیل، خصوصی نمائشوں کے انعقاد اور پازیرک قالین جیسے اہم آثار کی دریافت کے ساتھ پھیلتی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ اس تقریب میں تقاریر کے علاوہ، عوام کو دستباف قالین کے پیداواری عمل سے روشناس کرانے کے لیے ایک نمائش بھی لگائی گئی تاکہ زائرین علامتی طور پر قالین سے جڑے پیشوں جیسے رنگائی، ریسائی (دھاگہ بنائی)، ڈیزائننگ اور بنائی سے واقف ہو سکیں۔
آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کی تیار کردہ دو خاص قالینوں «ایران جان» اور «ضامن آہو» کی عوامی نمائش اور دستباف قالین کے شعبے میں نو منتشر ہونے والی چند کتابوں کی پیشکش بھی مشہد میں قومی قالین کے دن کی تقریب کے دیگر حصے تھے۔
نیز اس تقریب میں دستباف قالین سے متعلق چند مختصر فلمیں دکھائی گئیں اور استاد غلام رسول صوفی اور استاد عسکریان نے خراسان کی مقامی موسیقی پیش کی۔
واضح رہے کہ مشہد قالین، ایران میں قالین بافی کے اہم مراکز میں سے ایک کے طور پر، عالمی ادارہ) میں بھی عالمی رجسٹریشن حاصل کر چکا ہے۔