آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ گذشتہ روز آستان قدس رضوی کے فن تعمیر اور آرائش میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت اس دار فانی سے چل بسی ،مرحوم ڈاکٹر محمد ناصر آئینہ چیان ایسے آرٹسٹ تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال مقدس بارگاہ میں نقوش بنانے اور آئینہ کاریوں کو بحال کرنے اور روایتی فن تعمیر کو برقرار رکھنے میں گزار دیئے ، ان کی نماز جنازہ میں خدام اورآستان قدس رضوی کے متولی نے شرکت کی ۔
شاید بہت سارے زائرین ڈاکٹر محمد ناصر آئینہ چیان کے نام کو نہ جانتے ہوں ،یہ ایسے آرٹسٹ تھے جو میڈیا پر بھی کم نظر آئے اور فقط اپنے کام کے میں لگۓ رہتے تھے،بہرحال روایتی فن تعمیر کے ماہرین کے لئے وہ ایک مؤثر شخصیت شمار کئے جاتے تھے، اس عظیم آرٹسٹ کی شخصیت اور آرٹ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لئے آستان قدس رضوی کے سابق قائمقام ڈاکٹر سید احمد مؤذن سے گفتگو کی جنہوں نے کئی سال ان کے کام کو قریب سے دیکھا ہے ۔
قومی پراجیکٹ سے لے کر حرم امام رضا(ع) میں خدمت تک
مؤذن علوی کے مطابق، آئینہ چیان مشہد آنے سے پہلے تہران اور اصفہان میں مختلف تعمیراتی اور آرائشی منصوبوں میں سرگرم تھے، اور گچ کاری، آئینہ کاری اور طلا کاری جیسے شعبوں میں وہ ایک ماہر فنکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے چند نمایاں پروجیکٹوں میں بھی حصہ لیا، جن میں مختلف محلوں اور شاہ عباسی ہوٹل کی آرائش شامل ہے۔
انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں آستان قدس رضوی کے ذمہ داران کی دعوت پر مشہد مقدس کا رخ کیا اور ٹکنیکل اور تعمیراتی شعبے میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔
جناب مؤذن علوی نے بتایا کہ استاد اپنے خاندان سمیت مشہد آگئے اور کچھ عرصہ بلا معاوضہ کام کرتے رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کا فن ان کا خاندانی ورثہ ہے۔تھوڑے ہی عرصے میں ان کی خصوصی مہارتوں کی بنیاد پرانہیں حرم امام رضا(ع) کے ادارہ آرٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
نیز، استاد محمود فرشچیان کے ساتھ ضریح جدید کی ڈیزائننگ اور تعمیر کے عمل میں ان کا تعاون ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دیگر شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ آئینہ چیان کے فن کے نقوش رواق دارالولایہ، دارالاجابہ اور حرم مطہر کی بعض ثقافتی فضاﺅں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
رواق امام خمینی(رح) میں روایتی فن تعمیر پرزور
آستان قدس رضوی کے سابق قائمقام نے بتایا کہ رواق امام خمینی (رح) جیسے منصوبوں میں طرزِ تعمیر کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں، لیکن استاد آئینہ چیان نے ایرانی-اسلامی روایتی طرزِ تعمیر کے استعمال پر زور دیا۔
مؤذن علوی نے سرداب کے فنی نقوش کی ڈیزائننگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جو عام طور پر زائرین کی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے استاد آئینہ چیان نے ان کم دکھنے والے حصوں میں بھی اسلامی فن کو مکمل طور پر برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔
حرم امام رضا(ع) میں آرٹ کا ورثہ
جناب مؤذن علوی نے بتایا کہ حرم امام رضا(ع) مختلف تاریخی ادوار میں ایرانی فن کے مختلف پہلوؤں کا ایک مجموعہ رہا ہے ،ان کے مطابق حالیہ دہائیوں میں رواق دارالحجۃ عج)، رواق امام خمینی (رح) اور ضریح مطہر کے گرد موجود فضاﺅں میں جو کام انجام دیے گئے ہیں، وہ عصری دور میں روایتی فن تعمیر کے تسلسل کی مثالیں ہیں۔
انہوں نے استاد کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی بہت سادہ تھی اور وہ اپنا زیادہ تر وقت فنی منصوبوں کی ڈیزائنگ اور تعمیر پر صرف کرتے تھے۔
واضح رہے کہ استاد آئینہ چیان کا پیکر رواق دارالحجہ (عج) میں، جہاں انہوں نے برسوں آرائش کی ڈیزائننگ اور تعمیر میں کردار ادا کیا، سپردِ خاک کیا گیا ۔