آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ’’اذن عزا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ روایتی پروگرام میں آستان قدس رضوی کے متولی، حرم امام رضا(ع) کے خدام اور ہزاروں زائرین نے شرکت کی۔
ہر سال یہ روایتی پروگرام ماہ محرم الحرام کا چاند نظر آنے پر سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے ایّام سوگواری شروع ہونے کی مناسبت سے منعقد کئے جاتے ہیں اور اس میں حرم امام رضا(ع) کے سنہری گنبد پر نصب سبز پرچم کو اتار کر سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پرچم نصب کیا جاتا ہے ۔
ماہ ذی الحجہ کے آخری غروب سے پہلے ہی صحن انقلاب اسلامی ماتمی انجمنوں اور زائرین سے بھر گیا تھا وہ زائرین جو امام روؤف سے عزاداری کی اجازت لینے کے لئے جمع ہوئے تھے ،حرم کے خدام سیاہ لباس پہنے اور ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھائے کھڑے ہیں ایسے لگ رہا ہے کہ کوئی گرانقدر امانت اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔
واعظ شہیدی کے خطاب میں عزاداری کی اہمیت
’’اذن عزا‘‘ کےعنوان سے منعقد ہونے والے روایتی پروگرام میں حجت الاسلام والمسلمین عبد الحمید واعظ شہیدی نے خطاب کیا اور عزاداری سیدالشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین (ع) کی اہمیت کے موضوع پر تقریر کی ۔
انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے امام کے گھر میں آئے ہیں جو کربلا کے مصائب پر گریہ کناں ہیں جنہوں نے زیارت جوادیہ میں ہمیں سکھایا ہے کہ کس طرح مظلوم کربلا پر گریہ کرنا ہے ۔
حجت الاسلام واعظ شہیدی نے معرفت کے بغیرعزاداری کو ایک بے جان بدن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ منورہ میں حسینی شناخت کی اہمیت پر تاکید فرمائي ہے انہوں نے کہاکہ اگر آج ہم آنسو بہاتے ہیں اور ماتم داری کرتے ہیں تو ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے ان آنسوؤں کے قطروں سے ہمارا تعلق حضرت فاطمہ زہرا(س) سے مستحکم ہوتا ہے ۔
انہوں نے پیاس کے المناک واقعہ اور رسول خدا(ص) کے امام حسین(ع) کے بدن کے بوسے کا ذکرکیا تو پورے صحن میں گریہ اور آہ وبکا تھا۔
ان روایتی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے حرم امام رضا(ع) کے سنہری گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا گیا اور اس دوران حاضرین نے امیری حسین و نعم الامیر اور یا حسین(ع) کی صدائیں بلند کیں اور اختتام پر ماتمی انجمنوں کے نمائندوں کو عزای امام حسین(ع) کی سیاہ شال بھی دی گئی ۔