آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ مؤرخہ 18 جون 2026 بروز جمعرات کو تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل خانے میں چھٹی امام رضا (ع )عالمی کانگریس امام رضا(ع) کی چودھویں نشست کا انعقاد ہوا ،جس کا مقصد عصر حاضر میں انسانی حقوق کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں مذہبی نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لینے اور اہلیت(ع) کی سیرت میں انسانی کرامت کے مقام کو واضح کرنا تھا۔
اس اجلاس میں سیاپاکورن یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر ماناس کیاتی تارای نے اپنی گفتگو کے آغاز میں امام رضا(ع) کی تعلیمات سے اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انقلاب اسلامی کے ابتدائی برسوں میں ایران کا سفر کیا اور اس دوران حرم امام رضا(ع) کی زیارت کی ،اگرچہ اس وقت تشیع کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں لیکن حرم امام رضا(ع) کی شان و شوکت اور روحانی فضا اس کی فکری تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا۔
ڈاکٹر کیاتی تارای نے اپنی علمی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس روحانی تجربے نے ہمیں اس بات پر آمادہ کیا کہ بنکاک کے تعلیمی مراکز کے تعاون سے سیمینار منعقد کریں جن میں اہلسنت اور اہل تشیع کے علماء کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ اسلامی تعلیمات پر گفتگو اور تبادلۂ خیال کریں تاکہ امام رضا (ع) کی زندگی اور تعلیمات کے بارے میں گہری شناخت حاصل ہو سکے۔
انسانی حقوق کے تجزیاتی حصے میں اس پروفیسر نے ۱۹۴۸ کے عالمی بیانیہ میں انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عالمی دستاویزات میں مساوات اور انصاف کا ذکر ہے، لیکن دنیا کے موجودہ بحران اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان اصولوں پر ہمیشہ منصفانہ طور پر عمل نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو صرف اعلامیوں اور دستاویزات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا آغاز انفرادی اور سماجی سطح پر انسانی کرامت کے حقیقی احترام سے ہونا چاہیے ۔ اور یہ وہ چیز ہے جو امام رضا (ع) کی عملی سیرت میں اپنے کمال کو پہنچی ہے۔
انہوں نے امام رضا(ع) کی زندگی سے عینی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام رضا (ع) اپنے طرز عمل میں مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر عدل وانصاف کو نافذ کرتے تھے، جیسا کہ غیر مسلموں کے سلسلے میں خیراتی وصیت ناموں پر وہ درست اور منصفانہ عملدرآمد پر تاکید فرماتے تھے۔ نیز، وہ مزدوروں اور نوکروں کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کر ذاتی مساوات پر زور دیتے تھے اور کام شروع کرنے سے پہلے منصفانہ اجرت مقرر کرنے کا حکم دے کر مزدوروں کے حقوق کو اعلیٰ ترین سطح پر محفوظ فرماتے تھے۔
ڈاکٹر کیاتی تارای نے کہا کہ آزادیٔ فکر، آزادیٔ اظہار رائے اور عوامی امور میں شرکت جیسے تصورات، اس سے صدیوں پہلے کہ وہ نئے قانونی ڈھانچوں میں سامنے آئیں، امام رضا (ع) اور اہلبیت (ع) کی سیرت میں عدل اور سماجی ہمدردی کے بنیادی ستونوں کے طور پر بیان کیے گئے تھے۔
انہوں نے آخر میں تجویز پیش کرتے ہوئے آستان قدس رضوی سے وابستہ اداروں اور متعلقہ ثقافتی مراکز سے درخواست کی کہ تھائی لینڈ میں وسیع علمی سیمینار منعقد کرکے تھائی لینڈ، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے شیعہ اور اہل سنت علماء کے درمیان گہرے تعاون کا موقع فراہم کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ اس سے اسلامی اتحاد مضبوط ہوگا اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا اور اسی طرح امام رضا(ع) کے تہذیبی ورثے کو مزیدمتعارف کرانے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔