آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ اجلاس مؤرخہ 19 جون 2026 کودونوں ممالک کی علمی شخصیات، محققین، ماہرین فن اور روایتی فنون کےماہرین کی موجودگی میں تیونس میں منعقد ہوا ، جس میں آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔
ڈاکٹر حمید کارگر نے اجلاس کے دوران ایرانی ہینڈ میڈ قالین کی تاریخ اور قدمت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قالین مختلف نقوش کی حامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے بڑے بڑے میوزیمز میں ایرانی قالین نمایاں طورپر موجود ہوتی ہے ۔
تیونس میں ایران کے ثقافتی اتاشی ڈاکٹر جعفر مروارید نے قومی قالین ڈے کےموقع پر اس تقریب کے انعقاد کو ثقافت کی اہمیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قالین محض ایک عملی مصنوعات نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی ورثہ ہے جس نے صدیوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافتی ترقی کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے۔
تیونس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر جناب میر مسعود حسینیان نے بھی اس اجلاس میں گفتگو کی اور ماہ محرم الحرام اور امام حسین(ع) کی تحریک کے اقدار کو زندہ رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے ایرانی قالین کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ایران کی تاریخ کو اس کی پوری ثقافت کے ساتھ منعکس کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قالین اپنی درست مہارت، دلکش رنگوں اور بھرپور ڈیزائنوں کی وجہ سے ممتاز ہیں اور ایرانی فنکار محض قالین نہیں بنتے بلکہ تاریخ کے اوراق بنتے ہیں جو آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ قدیم پازیرک قالین آج بھی ایران میں اس فن کا گواہ ہے ۔
آستان قدس رضوی کے قالین میوزیم کے ڈائریکٹر جناب عبد الحسین ملک جعفریان نے بھی اجلاس کے دوران ایرانی ثقافت میں قالین کی اہمیت پر گفتگو کی اور حرم امام رضا(ع) میں قالین میوزیم کے قیام کی تاریخ اور جدید ترین علوم کے ذریعے ان کے تحفظ کے لئے کی گئی کاوشوں کا ذکر کیا۔
تیونسی محققہ محترمہ ڈاکٹر زینب کریمہ بھی اس تقریب کی دیگر مقررہ تھیں جنہوں نے صفوی دور کی قالین کے تیونس کے قیروان قالین کے ڈیزائنو پر اثرات کا جائزہ لیا ، اس محققہ نے مشترکہ آرائشی عناصر اور فنی علامتوں کے درمیان مماثلتوں پر زور دیا اور کہا: یہ ہم آہنگی مشرقی اور مغربی اسلام کے درمیان ثقافتی تبادلے کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ ساتھ، تیونسی قالینوں نے اپنا مخصوص مقامی انداز برقرار رکھا ہے اور خاص طور پر قیروان قالین، مشرقی فنی مکاتب سے متاثر ہونے کے باوجود، اپنی مخصوص بصری زبان تیار کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
تیونس میں تزئینات اور منییچر کی ماہرہ محترمہ ڈاکٹر فاطمہ البنا نے اس اجلاس کے دوران ایران اور تیونس کی تہذیبوں میں آرائشی فنون کی تاریخ اور جمالیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تزئینات اور آرائش محض ایک جمالیاتی عنصر نہیں ہے جس کا مقصد صرف سجاوٹ ہو ، بلکہ یہ ایک مکمل بصری زبان ہے جس میں فکری، روحانی اور ثقافتی معانی ومفاہیم سموئے ہوئے ہیں۔