آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں غیرملکی طلباء کے لئے فارسی زبان کی تعلیم،پاکستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ علمی روابط میں توسیع اور بین الاقوامی تحقیقات میں مصنوعی ذہانت کے اہم کردار پر تاکید کی گئی ۔
بین الاقوامی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر ابراہیم داؤدی شریف آؓباد نے اس اجلاس کے آغاز میں ایران میں تعلیم کے خواہش مند طلباء کے لئے فارسی زبان کے کورسزز منعقد کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کورسزز کے سرٹیفکیٹس ایران کی تمام یونیورسٹیوں میں معتبر ہیں ۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امام رضا(ع) سے محبت و عقیدت کی وجہ سے بہت سارے پاکستانی طلباء مشہد مقدس میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں ،امام رضا(ع) یونیورسٹی ان طلباء کو ہاسٹل ، رہائش اور تعلیمی معاونت جیسی سہولیات فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ کراچی کے حالیہ دورے کے دوران ایک پاکستانی تاجر نے مالی طور پر کمزور طلباء کی معاونت کا فیصلہ کیا ہے اور ایران میں اسکالر شپ فراہم کرنے کے لئے ایک علمی وقف کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے ۔
جناب داؤدی نے پاکستان کے صوبہ سندھ کی یونیورسٹیوں کے ساتھ مسلسل تین سالہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران بارہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے اورمصنوعی ذہانت، مکینکل انجینئرنگ، میڈیکل اور آرٹس کے شعبوں میں طلباء کو ایران میں تعلیم کے حصول کے لئے بھیجا گیا۔
قابل توجہ ہے کہ غیرملکی طلباء کے لئے فارسی زبان کی کلاسز آںلائن منعقد کی جاتی ہیں اور طلباء فارسی زبان کے کورسز مکمل ہونے کے بعد مختلف سبجیکٹس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔
یونیورسٹی سطح کی تحقیقات میں مصنوعات ذہانت کے استعمالات
اس اجلاس کے دوران امام رضا(ع) یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن جناب ڈاکٹر عادل قاضی خوانی نے علمی تحقیقات میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ChatGPT، Gemini، Claude، Deepseek، Copilot اور Perplexity جیسے ٹولز بہت سارے تحقیقی مراحل میں طلباء کی اہم مدد کر رہے ہیں۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے Dimensions، Litmaps اور Connected Papers جیسے علمی ٹولز کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ٹولز تحقیقی مواد کا تجزیہ کرنے ،لٹریچر کا جائزہ لینے اور مضامین کی درجہ بندی میں انتہائی موثر ہیں۔
ڈاکٹر قاضی خوانی نے ’’پرامیٹ انجینئرنگ‘‘ کی اہمیت اور مصنوعی ذہانت کے صحیح اور ذمہ دارانہ استعمال پر تاکید کرتے ہوئے معتبر ذرائع کی بنیاد پر جوابات تک پہنچنے کے طریقے بیان کئے ۔
اجلاس کے اختتام پر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر پر کچھ اشاعتی اداروں کی پابندیوں،گرامر چیک کرنے والےٹولز کے استعمال کی ضرورت اور طلبا کو پیشہ ورانہ متون کا ترجمہ کرنے میں درپیش چیلنجز جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال گیا۔