آستان نیوز کے مطابق پروفیسر حسین عباسیان نے حرم مطہر رضوی کے مدرسہ پریزاد میں منعقدہ چوتھی خصوصی نشست میں کہا کہ دشمن کے منصوبے میں رہبرجمہوری اسلامی ، مسلح افواج کے سربراہ ، سپاہ کے کمانڈر، وزیردفاع اور دیگر کمانڈروں کو شہید کرنا تھا اور وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے بعد اسلامی جمہوری نظام ختم ہوجائے گا لیکن ہمارے شہید امام کے خون کے فوارہ نے ٹرمپ کی طاقت کے تمام مراکز کونابود کرکے رکھ دیا ۔
بحرانی حالات سے عبور کرنے میں عوام کا کردار
پروفیسر عباسیان نے بحرانی حالات سے عبور کرنے میں عوام کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے امام خمینی (رح) کے اس قول کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ((جب میں نے دیکھا کہ لوگوں نے آيت اللہ بروجردی کے لئے اس طرح پرشکوہ انداز میں غم منایا اسی وقت ہم نے سمجھ لیا تھا کہ انقلاب برپا کرنے میں عوام کے اندر کتنی توانائي موجود ہے )) ۔ پروفیسر عباسیان نے کہا کہ تیسری مسلط کردہ جنگ میں جس چیز نے ملک کو ظاہری طور پر بغیر رہبر کے ایام میں مستحکم اور پائيدار رکھا وہ عوام کی موجودگی ہے جس نے ملک کی قیادت اور رہبری کی تاکہ سسٹم دوبارہ اپنا کام شروع کرسکے ۔
علاقائي انعکاس اور خلیج فارس کے ملکوں کی سیکورٹی
سیاسی مبصر پروفیسر عباسیان نے اس جنگ کے علاقائی اثرات اور نتائج کے بارے میں کہا کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کی سیکورٹی جو امریکا کو سونپ دی گئي وہ پوری طرح ناکام رہی ہے اور اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر اور بحرین جنھوں نے برسوں سے اپنے اڈے اور فوجی چھاؤنیاں امریکا کے اختیار میں دے رکھی تھیں آج اس نتیجے پر پہنچ گئے ہيں امریکا حتی اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتا ۔
استقامتی محاذ کے چینل اور فوجی کارروائیوں کے دائرے کی وسعت
پروفیسر عباسیان نے کہا کہ یہ جنگ استقامتی محاذ کے لئے ایک سنگ میل ہے ان کا کہنا تھا کہ استقامت آج حزب اللہ جیسے کسی ایک گروہ تک محدود نہيں ہے بلکہ انصاراللہ یمن اور دیگر استقامتی گروہوں پر مشتمل ایک وسیع چینل ہے
ان کا کہنا تھا کہ یہ استقامتی محاذ تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران ایک وسیع دائرے میں پھیل چکا ہے اور علاقائي دفاع کے ایران کے منصوبے کے تحت ایک مضبوط دیواربن چکا ہے اور آج وہ سمندری حدود اور آبنائے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان استقامتی گروہوں نے سمندر اور آبنائے میں اپنی سرگرمی صرف 10٪ ہی انجام دی ہے لیکن اس کا اثر پوری طرح سے عالمی سطح پر محسوس کیا جارہا ہے ۔
طاقت کے توازن کے بارے میں مغربی تجزیہ نگاروں کا تجزیہ
پروفیسر عباسیان نے مغربی تجزیہ نگاروں کے تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی نظریہ پرداز نے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں لکھا تھا (( ایک وقت وہ تھا جب کوئی بھی امریکی بحری بیڑا حرکت میں آتا تھا تو کئی ممالک صف باندھ کر کھڑے ہوجاتے تھے لیکن آج امریکا کے ہر اقدام پر نفرت و بیزاری کی لہر دوڑ جاتی ہے ))
انہوں نے اسی طرح ایک اور مغربی تجزیہ نگار ریچرڈ ہاس کے قول کا حوالہ دیا جس میں اس نے کہا ہے : عالمی اقتصاد و معیشت میں امریکا کا حصہ 50٪ فیصد تھا جو اب گھٹ کر 13 سے 15 ٪ فیصد رہ گيا ہے (( یہ امریکا کی بالادستی کا زوال ہے )) جو ایک حقیقت ہے ۔
انرجی کے سیکٹر میں علاقے کی معیشت پر پڑنے والے اثرات
پروفیسر عباسیان نے انرجی اور اقتصاد کے شعبے میں کہا کہ ایران کئي عشروں سے پابندیوں کا سامنا کررہا ہے اور اس نے اقتصادی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنے کی طاقت حاصل کرلی ہے لیکن خلیج فارس کے عرب ممالک اور انرجی کی برآمدات سے وابستہ معیشتیں سمندری راستے میں کسی بھی طرح کی مشکلات اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو بند کئے جانے کی صورت میں انتہائي کمزور ہیں اور وہ دوام نہیں لاسکتیں ۔