آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آزاد تجارتی اور صنعتی علاقے سرخس کے با ضابطہ آغاز سے آستان قدس رضوی کی موقوفہ اراضی پر ترقی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے ۔
پارلیمنٹ میں سرخس شہر کے نمائندے سید احسان قاضی زادہ ہاشمی نے اس تقریب کےدوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد تجارتی اور صنعتی علاقے سرخس کا پروجیکث ایک دہائی سے زائد کی مسلسل کوششوں، ملکی انتظامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی، اور آستان قدس رضوی کی بے دریغ حمایت اور تعاون کا نتیجہ ہے۔ موقوفہ اراضی پر بنائے گئے یہ بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات اب قومی معیشت کے اہم ستون بن چکی ہیں۔
انہوں نے سرخس میں سرمایہ کاروں کی غیرمعمولی دلچسپی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سرمایہ کاری کے رجحان کا حجم نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، یہاں تک کہ صرف پچھلے ہفتے 50 سرمایہ کار مشہد میں پہنچے اور سرخس میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی۔
بین الاقوامی راہداریوں کو ملانے والی کڑی
ملک کے شمال مشرق میں وزارت خارجہ کے نمائندہ دفتر کے سربراہ غلام عباس ارباب خالص نے بتایا کہ سرخس کا علاقہ شمال جنوب راہداری یا کوریڈور کو منسلک کرنے والی اہم کڑی ہے ،جو روس کو خلیج فارس سے ملاتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ آستان قدس رضوی کی طرف سے تعمیر اور تیارکردہ اسٹریکچر کی بدولت حاصل یہ جیو اکنامک پوزیشن ایران کو جنوب مغربی ایشیا کا ترانزٹ ہب بنا سکتی ہے۔
سرمایہ کاری کی راہ کا منظم ہونا
آزاد تجارتی اور صنعتی علاقے سرخس کے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے کے شعبے کے سربراہ نے اس تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی زون سے آزاد علاقے میں تبدیلی کا عمل انجام پانے کے بعد اب تمام مالیاتی نظام مرکزی بینک میں کھول دیئے گئے ہیں اور علاقے کی تمام آمدنی شفاف طریقے سے خزانے میں جمع کی جاتی ہے تا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے لئے ایک قانونی ماحول فراہم ہوسکے۔
انہوں نے اس علاقے میں پہلی اقتصادی سرگرمی کے اجازت نامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چھ میگا پروجیکٹس کی پلاننگ کی ہے جن میں شریک ہونے والوں اور سرمایہ کاروں کو 40 سے 44 فیصد تک متوقع منافع کے ساتھ علاقے کے باضابطہ اقتصادی کارکنوں کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
ہماری کوشش ہے کہ ٹرانشپمنٹ اور اشیاء کی جابجائی کے شعبے میں سرخس ملک میں ایک کامیاب اورممتا زنمونہ بن جائے۔