آخر الأخبار
خبر کا کوڈ : ۱۴۸
۱۴:۱۸

۲۰۲۶/۰۳/۱۷

رہبرشہید انقلاب سلامی کی شخصیت حضرت علی علیہ السلام کی سیرت سے متاثر تھی ، متولی آستان قدس رضوی 

رہبرشہید انقلاب سلامی کی شخصیت حضرت علی علیہ السلام کی سیرت سے متاثر تھی ، متولی آستان قدس رضوی 
آستان قدس رضوی کے متولی نے رہبرشہید انقلاب اسلامی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بیان اور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی کے شخصیتی پہلو حضرت علی علیہ السلام کے سیرت اور کردار سے متاثر تھے

 آ‎ستان نیوز کے مطابق آیت اللہ احمد مروی نے مشہد مقدس کے ذرائع ابلاغ ک نمائندوں، صحافیوں، اہل قلم حضرات اور میڈیا ہاؤسز کے سربراہوں سے ملاقات میں جو 20 رمضان المبارک کو حرم مطہر رضوی کے ولایت ہال میں انجام پائي رہبرانقلاب اسلامی کی شخصیت کے سبھی پہلوؤں کو بیان اور ان کی تشریح کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نظام کے دفاع اور عوام کی حمایت میں ان کی ثابت قدمی اور  پائیداری انتہائي اہم پہلوکی حامل ہے لیکن ان کی شخصیت کے صرف ایک پہلو کو بیان کرنے پر ہی اکتفا نہيں کرنا چاہئے بلکہ ضروری ہے کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی کی شخصیت کے سبھی پہلوؤں پر توجہ دی جائے اورانہیں دنیا کے سامنے بیان کیا جائے  
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی بہت ہی صمیمی شخصیت کے مالک تھے اور ہرکسی کو ان کی ذات میں اپنائيت کا احساس ہوتا تھا باوجود اس کے کہ وہ  ولایت و زعامت اور رہبری و امامت کےمنصب پرفائز تھے لیکن ان کے ساتھ رہنے والے ان کے ساتھ اپنائیت اور رفاقت کا احساس کرتے تھے اور یہ خصوصیت ہم سب کے لئے سبق آموز ہے   
انہوں نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی، لوگوں سے ملاقات اور روابط میں     سن و سال یا ظاہرپر توجہ نہین دیتے تھےاور جو معاشرے میں لوگوں کے درمیان فرق اور فاصلوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص کا لباس ایسا ہے ، یا فلاں کی عمر کم ہے اور پھر اس شخص کو دائرہ ارتباط سے دور رکھا جاتا ہے ان سب چيزوں کی رہبرانقلاب اسلامی کی نگآہ میں کوئي اہمیت نہيں تھی اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ رہبرمعظم کی سیرت اور طرز زندگی کے اس پہلو پر بہت  کم توجہ دی گئی ہے اس لئے اس پہلو کو نوجوانوں اور جوانوں کے سامنے  صحیح طریقے سے بیان کرنے کی ضرورت ہے ۔
آیت اللہ مروی نے اپنے خطاب میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کی جامعیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرجناب امیر کے جہاد اور میدان جنگ کی زندگی کے پہلو پر نظر ڈآلتے ہیں تو انہیں ہم میدان جنگ میں ایک شجاع ، بہادر، مقتدر اور ثابت قدم شخصیت پاتے ہیں لیکن جب حضرت علی علیہ السلام کو ہم محراب عبادت میں دیکھتے ہيں تو خداوندعالم کے حضور ایک خاضع وخاشع  بندہ اور سراپا بندگی کی صورت میں انہیں دیکھا جاتا ہے کہ حالت نماز و عبادت میں وہ خود سے بیخود ہوجاتے ہیں ۔ اور جب یتمیوں کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے سلوک اور یتیم نوازی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ایک انتہائي مہربان اور شفیق باپ کی طرح دیکھتے ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ان تمام پہلوؤں کے حامل تھے اور حضرت علی علیہ السلام کی معرفت ان تمام پہلوؤں کے ساتھ حاصل کرنی چاہئے نہ کہ صرف تلوار اور جہاد کے میدان کے سورما کے طور پر ہی  دیکھنے پر اکتفا کیا جائے ۔
 آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ رہبرمعظم انقلاب اسلامی کے بارے میں بھی اسی طرح کی جامع نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے اور ضروری ہے کہ امنگوں اور اقدار کے دفاع میں ان کے عزم محکم سے لے کرعوام سے ان کے بہترین حسن سلوک ، اپنائیت کے جذبے ، اخلاق و معنویت سبھی پہلوؤں کو ملاکر دیکھا  اور بیان کیا جائۓ نہ یہ کہ ان کی شخصیت کے صرف ایک ہی پہلو پرپوری توجہ مرکوز کردی جائے ۔ 
مجلس خبرگان کا انتخآب ایک بروقت اور دلیرانہ فیصلہ تھا 
 آستان قدس رضوی کے متولی نے نئے رہبر کے انتخاب میں ماہرین کی کونسل مجلس خبرگان کے فیصلے کی تعریف کرتےہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک بہترین، بروقت اور دلیرانہ فیصلہ تھا ۔ آيت اللہ مروی کا کہنا تھا کہ مجلس خبرگان نے دھمکیون اور ماحول سازی کے باوجود پوری شجاعت اور جامع اور بھرپور طریقے سے اپنے فرائض پر عمل کیا 
 ان کا کہنا تھا کہ ہم مجلس خبرگان کے فیصلے کو سراہتے ہیں کیونکہ اس نے نئے رہبر کے انتخاب میں جو بہترین فیصلہ کیا وہ اپنی جگہ اس کے علاوہ بھی  اس کونسل نے دو اہم اور قابل تعریف اقدامات بھی انجام دئے 
اول یہ کہ نئے رہبرکا انتخاب بروقت ہوا اور دوسرے یہ کہ اس بے غیرت و قمارباز شخص ( ٹرمپ ) کی دھمکیوں کے باوجود جس میں وہ  بار بار ایران کو دھمکا رہا تھا اور ماحول سازی کررہا تھا  ماہرین کی کونسل نے دلیرانہ فیصلہ کیا اور ان دھمکیوں کی کوئی پروا نہيں کی بلکہ پوری شجاعت اور بہادری کے ساتھ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں پرعمل کیا ۔  
انہوں نے آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے علمی مقام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ  سید مجتبی خامنہ ای علمی اعتبار سے ایک فاضل اور صاحب نظر شخصیت ہیں اور میدان فقاہت اور حوزوی علوم میں ان کی اعلی علمی صلاحیتوں میں کوئي شک وتردید نہيں ہے ۔ انہوں نے دس سال سے زائد عرصے تک مرحوم آيت اللہ تبریزی، مرحوم آیت اللہ مجتبی تہرانی اورحضرت آيت اللہ وحید خراسانی جیسے عظیم اساتذہ کے دروس خارج میں شرکت کی کسب علوم کیا اس کے علاوہ آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای خود برسوں سے درس خارج دے رہے ہیں ۔ 
 آ‎ستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ سید مجتبی خامنہ ای پوری طرح مسائل روز سے اورحالات حاضرہ آگاہ و باخبر ہیں اور ملک کے اہم ترین معاملات اور حالات و واقعات سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں اور فکری و نظریاتی لحاظ سے بھی انتہائي  محکم،  پرعزم اور مسائل و معاملات کا تجزیہ وتحلیل کرنے میں بلند افکار کے حامل ہیں۔ فیصلہ سازی کے معاملات میں بہت ہی ٹھوس و مستحکم ارادوں کے مالک ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے رہبر مسائل اور معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں ، مختلف موضوعات پرانہيں پورا عبورحاصل ہے اور استعداد و ذہانت ان کی شخصیت کا خاصہ ہے
 آ‎ستان قدس رضوی کے متولی نے آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی اخلاقی اور ذاتی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ شخصیتی اور ذاتی اعتبار سے بھی آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای انتہائی سادہ  طرز زندگي رکھتے ہيں اور زہد و تقوا ان کی اہم خصوصیت ہے اور صحیح معنوں میں دنیا سے وابستگی اور علاقہ دور دور تک ان کی ذات اور شخصیت میں نہيں ہے
آیت اللہ مروی کا کہنا تھا کہ رہبرانقلاب اسلامی کے سبھی بیٹے زاہد و پاک طینت اور سلامت نفس کے حامل ہیں اور اس درمیان رہبرانقلاب اسلامی کی زوجہ محترمہ کا کردار بھی اولاد کی اعلی تربیت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ 
انہوں نے کہا کہ : ایک جملے میں  کہا جائے تو آيت اللہ سید مجتبی خامنہ ای رہبرشہید انقلاب اسلامی کے مکتب کے تربیت یافتہ اور پروردہ ہیں اور ہمارا بھی فرض ہے کہ ولی فقیہ کے طور پر ان کی تبعیت اور اطاعت کریں ۔ ہم خداوندعالم کا شکرادا کرتے ہيں کہ اس ملت اور قوم کو اس نے ایسا رہبرعطا کیا ہے۔ ایک عالم ،عزم محکم کا مالک، حالات و واقعات سے پوری طرح آگاہ و باخبر اور زہد و تقوا اور شجاعت کا حامل رہبر ۔  
ایرانی عوام کی استقامت نصرت الہی کا روشن جلوہ ہے 
 آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے خطاب کے دوران سخت حالات میں ایرانی عوام کی استقامت و پائیداری کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس عظیم اورسخت امتحان میں پوری طرح سربلند ہوئے اور ان کا یہ ثبات قدم اور استقامت نصرت الہی کا روشن جلوہ ہے جس کا آج ہم بخوبی مشاہدہ کررہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے ساتھ یہ کہنا چاہئے کہ ہمارے عوام اس سخت امتحان میں  سرخرو ہوئے ۔ 
امام خمینی رح نے فرمایا تھا کہ(( کسی بھی پیغمبر کو اس امت جیسی امت نہيں ملی تھی )) اس وقت لوگ پوچھتے تھے کہ اس جملہ کا کیا مطلب ہے " لیکن جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے امام خمینی رح کے اس قول کی گہرائي اور حقیقت زیادہ سے زیادہ واضح ہوتی جارہی ہے 
انہوں نے تاریخ انبیائے الہی کے کچھ واقعات اور نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام الہی مشن کی انجام دہی کے لئے کچھ دنوں کے لئے شہر سے باہر چلے گئے تھے اسی مختصر سے عرصے میں سامری نے ایک گوسالہ تیار کرلیا اور بہت سے لوگ بت پرستی میں لگ گئے۔ حضرت موسی صرف چند روز کے لئے گئے امت سے دورہوگئے تھے شہید نہيں ہوئے تھے لیکن کچھ لوگ ان کی مختصر سی بھی غیبت یا عدم موجودگي کو تحمل نہ کرسکے
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ صدر اسلام میں بھی ایک جنگ کے دوران یہ شور اٹھا کہ پیغمبر اسلام شہید ہوگئے یہ صرف ایک افواہ تھی لیکن سپاہ اسلام کے کئي سپاہیوں نے راہ فرار اختیار کرلی 
 آیت اللہ مروی نے کہا کہ لیکن ہمارے دور میں رہبرمعظم شہید ہوجاتے ہيں لیکن نہ صرف یہ کہ ہتھیارنہیں ڈالے گئے بلکہ عزم و ارادے اور زیادہ مستحکم ہوگئے اور ایرانی عوام مزید استقامت و ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں اتر آئے۔ ایرانی عوام کی اس شجاعت اور بہادری کو ذرائع ابلاغ میں بیان اور تشریح کرنے کی ضرورت ہے 
انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جگہ جگہ عوام کے دسیوں ہزار پرمشتمل یہ اجتماعات نصرت الہی کا ہی جلوہ ہے ، نصرت الہی کا صرف یہی مطلب نہيں ہے کہ فرشتے آسمان سے نازل ہوجائيں۔ اس طرح کی نصرت کسی بھی پیغمبر کے لئے نہیں ہوئی ہے۔ نصرت الہی یہی ثبات قدم اور یہی عوام کی استقامت و پامردی اور یہی مسلح افواج کا میدان میں پوری قوت کے ساتھ ڈٹے رہنا ہے ہم آج نصرت الہی کو  اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں 
 آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ ہمارے عوام صحیح راستے پر قدم آگے بڑھا رہے ہیں اور یہ عنایت الہی ہے ان حقائق کو میڈیا اور ابلاغیاتی ذرائع سے بیان کرنا چاہئے اور معاشرے میں اس سلسلے میں  باوراوریقین پیدا کرانے کی ضرورت ہے 
دشمن کو ایک طاقتوراورخود مختار ایران سے پریشانی ہے
 آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایٹمی معاملہ اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈآلنے کا صرف ایک بہانہ ہے کہا کہ دشمن کے لئے جو چیز قابل تحمل نہیں ہے وہ ایک طاقتور اور خود مختار ایران کا وجود ہے اور آج درحقیقت ایران و اسلام اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے اسلام دشمن عناصر اور سازشوں کے درمیان مقابلہ ہے ۔
مغرب کو اس اسلام سے پریشانی ہے جس کا مرکز آج ایران ہے اور وہ اس اسلام کو اپنے تمدن کے لئے ایک بڑا چیلنج اور خطرہ سمجھتا ہے اسی لئے وہ ایٹمی اور میزائلی موضوعات کو ایران سے دشمنی اور دباؤ ڈالنے کے بہانے کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔
آيت اللہ مروی نے کہا کہ ان حالات میں جو لوگ غیرت اور استقامت کے ساتھ میدان میں کھڑے ہیں اور مسلح افواج جو اپنی پوری قوت کے ساتھ ملک کا دفاع کررہی ہیں یہ سارے واقعات تاریخ میں درخشاں باب بن کر چمکتے رہیں گے کیونکہ دشمن کے مقابلے میں ایک تاریخی معرکہ سر کررہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ حتی  مصدق کے زمانے میں بھی جب تیل کی صنعت کو قومیانے کی تحریک کے دوران ایران کی آزادی اور خود مختاری کی امیدیں پیدا ہورہی تھیں مغرب اس وقت بھی ایران کی خود مختاری کی تحریک کو تحمل نہیں کرسکا جبکہ خود مختاری کی یہ تحریک شہنشاہی نظام کے اندر اٹھی تھی بنابریں مسئلہ صرف اسلامی جمہوریہ سے مخالفت کا نہیں ہے بلکہ جو شخص بھی ایران کی آزادی و خود مختاری کے راستے میں قدم بڑھائے گآ اسے مغرب کی دشمنی کا سامنا کرنا ہوگآ 
آستان قدس رضوی کے متولی نے ایران کی معاصر تاریخ کے کچھ نمونوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصدق سے پہلے بھی امیر کبیر کے ساتھ دشمنی کی گئي امیر کبیر کو قتل کرکے راستے سے ہٹا دیا گيا اور ان کی جگہ آقاخان نوری کو جو برطانیہ کا پٹھو تھا تخت حکومت پر بیٹھا دیا گیا امریکا اور مغرب ، اصل میں ایران کی آزادی و خود مختاری نہيں دیکھنا چاہتے 

دشمن کی شناخت میں سطحی سوچ غلط تجزیوں کا نتیجہ ہے 
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنے خطاب کے دوران امریکا کے ساتھ مصالحت کے امکان کے بارے میں بعض غلط تجزیوں اور خیالات کے بارے میں کہا کہ کبھی بعض لوگ یہ شبہہ پیدا کرتے ہیں کہ گذشتہ برسوں کے دوران امریکا کے ساتھ مصالحت ہوسکتی تھی اور معاملات کو کسی نہ کسی طرح حل کیا جاسکتا تھا اور نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ، اس طرح کے تجزئے اور تصورات دشمن کے بارے میں سادہ اور سطحی سوچ کا نتیجہ ہیں  اسی لئے رہبرشہید انقلاب اسلامی ہمیشہ دشمن شناسی کی ضرورت پر زور دیتے رہے 
 انہوں نے سوال کیا کہ کیا آمریکا کبھی اپنے وعدوں پر قائم رہا ہے ؟ 
تاریخ گواہ ہے کہ امریکا نے کبھی بھی اپنے وعدے پرعمل نہیں کیا۔ مثآل کے طور پر 1990 میں امریکا اور ماسکو کے درمیان معاہدہ ہوا کہ نیٹو اپنا دائرہ یورپ کی مشرقی سرحدوں تک نہيں پھیلائے گا لیکن اس کے بعد نیٹو نے مشرقی یورپ کے 14 ملکوں کو اپنا ممبر بنالیا چنانچہ جب نیٹو نے یوکرین کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی اور روس کو احساس ہوا کہ وہ اب نیٹو کے محاصرے میں آجائے گا تو  یہ بات اس کے برداشت سے باہر ہوگئی  
انہوں نے کہا کہ ایک اور نمونہ1979  کا امریکا اور چین کے درمیان متحدہ چین کی پالیسی کے بارے میں ہونے والا معاہدہ ہے جس کے تحت امریکا نے قبول کیا تھا کہ تائيوان چین کا ہی ایک حصہ ہے لیکن اس کے باوجود 1995 میں اس وقت کے امریکی صدر بیل کلنٹن نے تائیوان کے صدر کو باضابطہ طور پر امریکا کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور عملی طور پر اپنے وعدے کے خلاف عمل کیا ۔
آيت اللہ مروی نے جامع ایٹمی معاہدے کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے سب سے واضح مثال اور نمونہ جامع ایٹمی معاہدے کا معاملہ ہے۔ اس معاہدے کے صرف تین سال بعد امریکا نے اس کی مخالفت کردی اور اس سے نکل گیا  

میڈیا کے افراد معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کے حفاظتی محاذ کے سپاہی ہیں 
 آستان قدس رضوی نے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے حالات میں میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے اسٹریٹیجک کردار پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے ایران کی مسلح  افواج پوری قوت اور جانفشانی کے ساتھ ملک کی سرحدوں کا دفاع کررہی ہیں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور صحافیوں کو بھی چاہئے کہ وہ معاشرے کی ذہنی اور فکری سرحدوں کی حفاظت کریں اور حالات کو صحیح طریقے سے بیان اور حقائق کی وضاحت کرکے رائے عامہ میں دشمنوں کے اثر و رسوخ کا راستہ بند کریں 
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن کسی قوم کی فکر اور ذہن کو فتح کرلے تو اس کے لئے جغرافیائی سرحدوں کو عبورکرنا بہت آسان ہوجائے گآ اسی لئے معاشرے کی فکری اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اورلوگوں میں آگاہی اور صحیح طریقے سے واقعات و حقائق کو بیان کرنا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، صحافیوں اور اہل قلم حضرات کی اہم ترین ذمہ داری ہے 
مسلح افواج کے جیالے پوری شجاعت کے ساتھ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کررہے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی سافٹ وار کےسپاہی کے طور پر معاشرے کی ذہنی اور فکری سرحدوں کی پاسداری کریں اور حقائق کو صحیح طریقے سے بیان کرکے دشمن کی تشہیراتی اور نرم جنگ کا مقابلہ کریں ۔
آيت اللہ مروی نے معاشرے میں عام لوگوں کے جوش و جذبے کی تقویت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس صورتحال میں عام لوگوں کے حوصلوں اور جذبوں کی تقویت  مستقبل کے تعلق سے حوصلہ بڑھانا اور پرامید رکھنا  خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ عوام کے اندر امید کو زیادہ سے زیادہ جگانا چاہئے اور انہيں مستقبل کے بارے میں پرامید رکھنا چاہئے ۔
ہمیں نہيں معلوم یہ جنگ کب تک جاری رہے گي لیکن ہم امید کرتے ہيں کہ یہ صورتحال جلد سے جلد اسلامی انقلاب کی کامیابی اور فتح کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچے 
 انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ عوام کو میدان میں باقی رکھا جائے ممکن ہے کہ میدان میں ان کی موجودگی کی ضرورت کچھ دنوں تک ضروری ہو یا حتی چند مہینے بھی میدان میں ان کی موجودگي ضروری ہو اس دوران میڈيا اور ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ وہ واضح ،صحیح حقائق کو بیان اور دقیق تجزیوں کے ساتھ اس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کریں کہ عوام مسائل کو صحیح طریقے سے درک کرسکیں اور جب عوام مسائل کو صحیح طریقے سے درک کریں گے تو پھر میدان میں ان کی موجودگی خود بخود پرجوش طریقے سے  باقی رہے گي  
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ اگر عوام کو یہ سمجھ میں آجائے کہ اس تاریخی اور حساس مرحلے میں ان کا کردار کتنا اہم ہے اور وہ تاریخ کے کس مقام پر کھڑے ہیں تو پھر انہیں میدان میں آنے کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ خود سے پورے جوش و جذبے اور آگاہی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ معاشرے تک حقائق اور واقعات کو صحیح طریقے سے پہنچانا خاص طور پر جوان نسل کو حقائق سے باخبر کرنا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، صحافیوں اور اہل قلم  حضرات کی ذمہ داری ہے  ۔ 


غلطی کی رپورٹ

تبصرے پوسٹ کریں۔
captcha
  • پیشنهاد سردبیر
  • تازہ ترین خبریں۔
پاکستانی زائرین کے ایک گروپ کا حرم امام رضا(ع) میں منعقدہ ’’رواق خدمت‘‘ نمائش کا دورہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) میں اردو زبان زائرین کے لئے جشن کا انعقاد عید غدیر کے دن حرم امام رضا(ع) میں غدیر کے اعمال کی ادائیگی باب الحوائج(ع) کا یوم ولادت باسعادت اور آپؑ کی لازوال میراث کی تجلی رضوی لائبریری میں حضرت امام علی(ع) سے منسوب دعا و مناجات کے 508 سالہ قدیمی قلمی نسخے سے نقاب کشائی حرم امام رضا(ع) کے ولایت ہال میں عید غدیر کے جشن کا انعقاد شب عید غدیر کے موقع پر حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ حرم امام رضا(ع) میں’’نصر من اللہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی پروگرام کا انعقاد سرخس؛ بین الاقوامی ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کا سنہری دروازہ عید غدیر کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کی پھولوں سے سجاوٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و اقتدار؛ولایت سے تمسک اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے ؛ آیت اللہ احمد مروی روضہ منورہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی جانب سے حرم رضوی کو غدیری پرچم ہدیہ کیا گیا حرم امام رضا(ع) میں عرب زبان زائرین کے لئے دعائے عرفہ کے مراسم ’’زیرسایہ خورشید‘‘ کاروان کے تحت پاکستان میں امریکی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کاروان ’’زیر سایہ خورشید‘‘ کی پاکستان کے شہر حیدرآباد میں ہونے والی نماز جمعہ میں شرکت رہبرِشہید معظم انقلاب اسلامی ؛ اصلی روشن خیالی کا نمونہ تھے 2026 میں قالین کی پیداوار اور تجارت میں توسیع، آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کا ایجنڈا  ملِک نیشنل لائبریری کا خزانہ؛ کاتبانِ کلام وحی کے تخلیقاتی فن کا محافظ ایران کی ’’جنوبی بندرگاہوں کا جغرافیہ‘‘ نامی کتاب کے اشاعتی منصوبے کا آغاز پانچ براعظموں سے مشرف ہونے والے زائرین کی میزبانی کے لئے رضوی موقوفات اہم خدماتی مراکز پاکستان; مقاومتی محاذ کا طاقتور بازو ہے ؛ حجت الاسلام امینی خواہ