آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ پروگرام مؤرخہ19 مئی 2026 بروز منگل کو ’’ثقافتی ورثے کے ہفتے‘‘ کی مناسبت سے آستان قدس رضوی کے میوزیم کے آثار کی مرمت و حفاظت کے موضوع پر حرم امام رضا(ع) کی لائبریری کے ’’اندیشہ‘‘ ہال میں منعقد کیا گیا جس میں لائبریرز،میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے عہدیداروں اورماہرین نے شرکت کی۔
آستان قدس رضوی کے ثقافتی آثار کی مرمت کے انچارج حسین قرقانی نے پروگرام کے دوران برطانوی بحریہ کی 1801 میں تیار کردہ فلنٹ لاک رائفل کی حفاظت و مرمت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلحہ جو کافی حد تک شکستہ ہو چکا تھا اس کی مرمت کا کام اس مرکز میں انجام دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ہتھیار فتح علی شاہ قاجار کے زمانے سے متعلق ہے،اس پر برطانوی مہر اور تعمیر کا سال بھی درج ہے اس کے علاوہ حسین اصفہانی کے نام کی مہرسے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ہتھیار کسی ایرانی نے بطور غنیمت حاصل کیا تھا۔
انہوں نے مرمت سے پہلے اور بعد کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں دستاویز کاری اور فن شناسی کی گئی تاکہ نقصانات کے علاوہ اس میں استعمال ہونے والے مواد جیسے لکڑی اور دھات وغیرہ کی پہچان ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے رائفل کے مختلف پرزے الگ کئے اور صفائی کو زیادہ تر مکینیکل طریقے سے انجام دیا۔
انہوں نے حفاظت و مرمت کے دیگر مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرمت کار کو مختلف شعبہ جات میں جیسے رنگ شناسی، میکانیکس،طریقہ کار اور مواد کی شناخت سے آگاہ ہوناچاہیے ۔
ملک کے مشرق میں حفاظت و مرمت کے سب سے اہم مرکز کا تعارف
آستان قدس رضوی کے ثقافتی آثار کی حفاظت و مرمت کے انچارج علی نخعی نے بتایا کہ ملک کے مشرقی حصے میں سب سے زیادہ تخصصی مرکز آستان قدس رضوی کا ہے ۔
جناب نخعی نے بتایا کہ عجائب گھروں اور میوزیموں میں موجود اشیاء کی حفاظتی تدابیر،دستاویز کاری، موجودہ اشیاء کی فن شناسی ،روک تھام کا انتظام،ملکی اورغیرملکی اساتذہ فن کے ساتھ علمی و تحقیقی تعاون ، اشیاء کی حفاظت و مرمت وغیرہ اس مرکز کے فرائض میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آستان قدس رضوی کے ثقافتی آثار کی مرمت کرنے والے ادارے میں مختلف شعبے اور ورکشاپس ہیں جن میں لیبارٹریز، حفاظت اور مرمت، دستاویز کاری اور مکتوب اور میوزیم کی اشیاء کی مرمت کی7 ورکشاپس ہیں جن میں پتھر،مٹی اور شیشہ کے برتن،مصوری، دھات اور تمغہ، لکڑی، ہاتھی کے دانت اور ہڈی، منسوجات اور قالین ،قلمی نسخے، تاریخی دستاویزات اور جلد سازی وغیرہ یہ سب آستان قدس رضوی کی مرکزی لائبریری کی عمارت میں واقع ہے ۔
واضح رہے کہ پروگرام کے دوران آستان قدس رضوی کے ثقافتی آثار کی مرمت کرنے والے ادارے کی جانب سے مختلف افراد، اداروں اور اس طرح کے نوادرات رکھنے والوں کے پاس موجود تاریخی اشیاء کی مرمت کرنے پر زور دیا تاکہ ملک کے ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جا سکے۔