آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کی لائبریری کے مخطوطات ہال میں اسلامی تاریخ،علم وفن کے ہزاروں زرّین اوراق موجود ہیں، یہ خزانہ جو صدیوں سے وقف کنندگان، عطیہ دہندگان اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و ثقافت سے محبت رکھنے والوں کی کوششوں سے وجود میں آیا ہے اور آج عالم اسلام کے تحریری ورثے کے سب سے بڑے اور قیمتی خزانوں میں شمار ہوتا ہے۔
عالم اسلام کے تحریری ورثے کا خزانہ
آرگنائزیشن آف لائبریریز،میوزیمزاورآستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے شعبہ مخطوطات کے ڈائریکٹر جناب رمضان علی ایزانلو نے آستان قدس رضوی کے قلمی نسخوں کے خزانے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قیمتی خزانہ ایک لاکھ قلمی نسخوں اور اسّی ہزار سے زائد سنگی طباعت اور سربی طباعت کے آثار پر مشتمل ہے ،اس مجموعے میں صرف مرکزی لائبریری میں اسّی ہزار سے زائد خطی نسخے اور59 ہزار سنگی طباعت اور سربی طباعت کے آثار شامل ہیں ، ان آثار میں نفیس قرآنی نسخے، خطاطی، تذہیب، تشعیر، جلد سازی اور کتاب آرائی کے فن سے آراستہ کتابیں، اسلامی فن اور تہذیب کے جاہ و جلال کا مظہر ہیں۔
ایک ہزارسال پرانا قرآنی نسخہ؛ لائبریری کا عطیہ کردہ قیمتی ترین نسخہ
انہوں نے بتایا کہ اس کتب خانے کا قدیم ترین وقف شدہ نسخہ قرآن کریم کا ایک جزو ہے جس کی کتابت کی تاریخ 327 ہجری قمری ہے، جو صدیوں پہلے حضرت رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ کے لیے وقف کیا گیا اور آج بھی اس خزانے میں محفوظ ہے۔ نیز اہل بیت علیہم السلام سے منسوب صحیفے جن پر شیخ بہائی کا وقف کا نوشتہ ہے، اس مجموعے کے دیگر نایاب آثار ہیں جنہوں نے اس کی تاریخی اور روحانی قدر میں اضافہ کیا ہے۔
شہید رہبر؛ آستان قدس رضوی کی کتب خانے کی تاریخ میں سب سے بڑے عطیہ دہندہ
آرگنائزیشن آف لائبریریز،میوزیمزاورآستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے شعبہ مخطوطات کے ڈائریکٹرنے بتایا کہ ہزاروں وقف کنندگان اور عطیہ دہندگان کے درمیان، شہید رہبر کا نام ایک خاص مقام ہے ، شہید رہبر(رح) نے 1369 سے 1404 ہجری شمسی تک اسّی مراحل میں سترہ ہزار پانچ سو بائیس قلمی نسخے، قرآن کریم کے قیمتی نسخے،تصویری نسخے،سنگی طباعت اور سربی طباعت کے آثار عطیہ کئے ۔ اس اقدام نے انہیں اس ہزار سالہ کتب خانے کی تاریخ میں خطی نسخوں کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ بنا دیا۔
آخری تحفہ؛ شہادت سے قبل ۸۱۰ آثار کا عطیہ
انہوں نے بتایا کہ اس ثقافتی وقف کا آخری باب، سنہ ۱۴۰۴ ہجری شمسی کے ماہ بہمن میں اور شہادت سے صرف ایک ماہ قبل رقم ہوا؛ جب ۸۱۰ دیگر قیمتی آثار بھی اس خزانے کے سپرد کیے گئے تاکہ شہید رہبر کا حضرت رضا علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ سے دیرینہ تعلق آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار ورثے کی صورت میں جاودانی رہے ۔
نفیس قرآنی نسخوں سے لے کر قدیم علمی آثار تک
جناب ایزانلو نے بتایا کہ عطیہ کردہ آثار میں قرآن کریم کے نایاب نسخے، جن میں امام حسین علیہ السلام سے منسوب قرآنی نسخہ، محمد صادق خوانساری کے خط میں قرآن اور عبداللہ رنانی اصفہانی کے قلم سے کتابت شدہ قرآن کریم کا نسخہ شامل ہے، ہر محقق اور فن وھنر دوست کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہیں۔ نیز «مصابیح السنة» جس کی کتابت کی تاریخ ۵۷۸ ہجری قمری ہے اور خواجه نصیرالدین طوسی کی «زبدة الهیئة» جس کی تاریخ ۶۸۵ ہجری قمری ہے، اس مجموعے کے قدیم ترین اور قیمتی ترین آثار میں شمار ہوتی ہیں۔
آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ورثے کی حفاظت
انہوں نے کہا: آج آستان قدس رضوی کے مرکزی کتب خانہ میں اس قیمتی ورثے کو صرف ذخیرے کی حد تک نہیں رکھا گیا؛ بلکہ تحفظ، مرمت، ڈیجیٹل سازی اور 14 جلدوں میں علمی فہرستوں کی تیاری کے خصوصی پروگراموں کے ذریعے، محققین، نسخہ شناسوں اور اس علمی میدان میں دلچسپی رکھنے والوں کو ان آثار تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔
شہید رہبر(رح) کے عطیہ کردہ نسخے محض قدیم کتابوں کا ایک مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ہر ایک اپنے اندر ایمان، ثقافت، علم اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے نورانی وجود سے وابستگی کی ایک داستان رکھتا ہے اور آج آستان قدس رضوی کے کتب خانے کے قلب میں، ایک پائیدار ورثے کے طور پر، عالم اسلام کی علمی اور ثقافتی شناخت کے ایک حصے کی حفاظت کر رہی ہیں۔