انہوں نے اس تحریر میں قومی شناخت،اسلامی نظام کے اقتدار اور رضوی تہذیب ساز تعلیمات کے مابین تعلق کی تشریح کی ہے ۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ڈاکٹر طالبی نے اس تحریر میں رضوی تعلیمات اور ملک کی اسٹریٹجک صورتحال کی بنیاد پر پرزور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی طاقت اور فتوحات درحقیقت امت اور امامت کے مابین اٹوٹ رشتے کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
ذیل میں ڈاکٹر طالبی کی تحریر کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے :
2026 کا عشرہ کرامت ایک خاص مذہبی مناسبت اور تہوار ہونے سے کہیں زیادہ ، اس قوم کے جلال و جبروت اور استقامت کا مظہر ہے جس نے شاہ خراسان کے سائے میں اپنی شناخت پائی ہے ۔
نعرہِ’’ایرانِ امام رضا(ع)، متحد،مقتدر اور کامیاب‘‘ کا انتخاب ایک گہری تہذیبی بصیرت اور امام رضا(ع) کے مقام و مرتبے کے درست تجزیے سے حاصل ہوا ہے کہ کس طرح معاشرے کو عزت کی سربلندیوں کی طرف رہنمائی کرنی ہے ۔
حضرت امام رضا(ع) نے ایک طویل حدیث میں امام کو ’’نظام الدین‘‘ کہا یعنی ایسا شخص جو دین اورمعاشرے کو نظم اور استحکام بخشتا ہے ، اگر آج ہمارا ایران، عالمی ہنگاموں کے درمیان، ایک «متحد» اور «مقتدر» لنگرگاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، تو یہ اسی نظم و ضبط کا نتیجہ ہے جس کا محور ولایت ہے۔
یہ سلوگن اور نعرہ تین بنیادی پہلوؤں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک معاشرے میں امام کی موجودگی کی برکات کے تسلسل سے حاصل ہوئے ہیں۔
1. اتحاد(عزّ المسلمین):امام عزت و وحدت کا ذریعہ ہے ، آج ایرانی قوم’’ایرانِ امام رضا(ع)‘‘ کے تصور کی بنیاد پر ہر قسم کے ذوق و سلیقے اور اختلافات سے بالاتر ہو کر ولایت کے محور پر متحد ہو چکی ہے ،یہ اتحاد وہ سیسہ پلائی دیوار ہے جس سے منافق غصے میں ہیں اور دشمن مکمل طور پر عاجز و ناتوان ہو چکا ہے ۔
2. اقتدار(بوار الکافرین): ہماری طاقت محض دفاعی ساز و سامان اور ہتھیاروں میں نہیں ہے بلکہ اس ناقابل شکست جذبے میں ہے جو امام کے ساتھ تعلق سے پیدا ہوتا ہے ،جب بدخواہ قومی ارادوں کو کمزور کرنا چاہتے تھے تو ہمارے ایران نے قائدین کی دانشمندی اور عوام کی موجودگی سے ہوشمندانہ اور ذہانت آمیز مزاحمت کی غیرمعمولی مثال اور نمونہ پیش کیا ۔
3. کامیابی: کامیابی اس قوم کو حاصل ہوتی ہے جو امام کو ایک شفیق باپ اور ہمدرد دوست سمجھتی ہے ، آج عشرہ کرامت کے ایام میں توحیدی معاشرے کے ثمرات جو ولایت کے محور پر تشکیل پایا ہے دنیا کے سامنے ہیں، ہمارے عوام نے رہبر کی قیادت میں اور رضوی سیرت کی پیروی کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ جدید اسلامی تہذیب تک پہنچنے کا راستہ اتحاد اور اقتدار کی راہ سے ہو کر گزرتا ہے ۔
ان ایّام میں تمام مبلغین، اہل علم و فن اور ثقافتی خادمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ایران کی تصویر پیش کریں جو مہربان امام (ع) کے نام سے متبرک ہے اور ولایت کے سائے میں کسی بھی رکاوٹ کو تسلیم نہیں کرتا،ایرانِ امام رضا(ع)؛ آج باطل پر حق کی فتح کے الہیٰ وعدے کا واضح نمونہ ہے ۔
سلوگن’’ایرانِ امام رضا(ع)،متحد،مقتدر اور کامیاب‘‘ کے تمام الفاظ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی(رح) کے فرمودات سے ماخوذ ہیں ،شب ولادت امام رضا(ع) میں شہید انقلاب اسلامی(رح) نے فرمایا تھا کہ ’’ایران، امام رضا(ع) کا ایران ہے ‘‘اور جنگ کے بارہ دنوں کے بعد اپنی تیسری تقریر میں ایران کے لئے ’’متحد،مقتدر اور کامیاب‘‘ کے الفاظ پر تاکید فرمائی تھی ۔
آستان قدس رضوی کی علمی و ثقافتی آرگنائزیشن کا سربراہ
ڈاکٹر عبد الحمید طالبی