آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ملک قومی لائبریری اور میوزیم تاریخی اور فنی آثار سے بھرا ہوا ہے جن میں تین آثار حدیث سلسلۃ الذہب کی داستان بیان کر رہے ہیں جو خطاطی کے قطعے،قہوہ خانے کی طرز کی پینٹنگ اور قلمی نسخے پر مشتمل ہیں ۔
قہوہ خانے کی پینٹنگ کو جونیشاپور شہر میں قدم گاہ کے مقام پر حدیث سلسلۃ الذہب کی داستان پر مبنی ہے عصرحاضرکے معروف مصور جناب محمد رضا حمیدی نے روغن اور کینوس پر رنگ کی تکنیک سے 203*318 سینٹی میٹر کے طول و عرض میں تخلیق کیا ہے ۔
اس کے علاوہ قلمی نسخہ کی جو 1081 ھ۔ ق کا ہے محمد سعید بن محمد تقی خاتون آبادی نے شکستہ نستعلق خط میں ترمہ کاغذ پر کتابت کیا ہے جس کی گتے کی جلد ہے اور اس پر پھول اور مرغ بنا ہوا ہے ، اس پر حدیث سلسلۃ الذہب دونوں طرف لکھی ہوئی ہے ۔
حدیث کا نام رکھنے کی وجہ
حدیث سلسلۃ الذہب امام رضا(ع) سے مروی ایک حدیث قدسی ہے جو توحید اوراس کی شروط کےبارے میں ہے ، حضرت امام علی رضا(ع) نے یہ حدیث اس وقت بیان فرمائی جب نیشاپور سے مرو کی جانب تشریف لےجا رہے تھے ، بعض روایات کے مطابق اس حدیث کے بیان کے وقت بیس ہزار سے زائد افراد نے اسے تحریر کیا۔
اس مشہور و معروف حدیث کے تمام راوی معصوم ہونے کی وجہ سے اس کو ’’سلسلۃ الذہب‘‘ یعنی سنہری سلسلے سے تعبیر کیا گیاہے ۔
البتہ یہ بھی منقول ہے کہ سامانی بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے اس حدیث کو سونے سے تحریر کروایا اور حکم دیا کہ اس حدیث کو اس کے ساتھ قبر میں رکھا جائے ، بعض لوگوں کی نظر میں اس کا نام ’’سلسلۃ الذہب ‘‘ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔
حدیث سلسلۃ الذہب کا متن
اس روایت کے مطابق توحید کا عقیدہ جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ ہے لیکن امام رضا(ع) نے خود کو اس نجات کی شرط قرار دیا ہے ، شیعہ علماء کے بقول امام رضا(ع) کی مراد امامت پر ایمان ہے ۔
حدیث سلسلۃ الذہب کا متن یہ ہے: «اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا» است. (شیخ صدوق، التوحید، ۱۳۸۹ق، ص۲۵)
واضح رہے کہ ملک قومی لائبریری اور میوزیم ایران کے شہر تہران میں خیابان امام خمینی(رح) پر واقع ہے جس کا مکمل ایڈریس: خیابان امام خمینی(رہ)،خیابان سی تیر، خیابان یارجانی،خیابان ملل متحد(میدان مشق) ہے ، یہ قومی میوزیم اور لائبریری 1316 ہجری شمسی میں حاج حسین آقا ملک کی جانب سے حرم امام رضا علیہ السلام کے لئے وقف کی گئی۔