آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ جب ہم نے ملک قومی لائبریری اینڈ میوزیم میں پائے جانے والے بیس ہزار عناوین پر مشتمل قلمی نسخوں کی طویل فہرست کا جائزہ لیا تو اس میں ’’رسالہ ذھبیہ‘‘ جو کہ طب الرضا(ع) کے نام سے بھی مشہور نظرآئی۔
عشرہ کرامت کی مناسبت سے ہم آپ قارئین کی خدمت میں اس قیمتی کتاب اور تہران میں موجود اس کے منتخب نسخوں کا تعارف کراتے ہیں۔
رسالہ ذھبیہ کی اہمیت
رسالہ ذھبیہ یا طب الرضا(ع) طبی شعبے میں لکھی جانے والی کتاب ہے جو امام رضا(ع) سے منسوب ہے یہ کتاب دوسری کتابوں کے برعکس خود امام ہشتم(ع) نے تحریر فرمائی ہے ۔
یہ کتاب دو لحاظ سے اہم ہے ایک یہ کہ طب کے میدان میں ایک علمی کتاب ہے اوردوسرا یہ کہ امام معصوم(ع) کی طرف سے صادر ہوئی ہے اس لئے تجرباتی اور طبی علوم میں پائی جانے والی معمولی غلطیوں سے پاک ہے ۔
یہ اہم طبی رسالہ عباسی خلیفہ مامون کی درخواست پر امام رضا(ع) نے تحریر فرمایا،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گوہر بار اثر کی اہمیت اور حیرت انگیز تاثیر اتنی تھی کہ مأمون نے حکم دیا کہ طب الرضا (ع) کو سونے کے پانی سے لکھا جائے،واضح رہے کہ رسالہ ذھبیہ کی سند کی صحت اور اصالت میں کوئی شک نہیں کیونکہ بعض روایات میں اس کی سند’’محمد بن جمہور‘‘ تک پہنچتی ہے اور بعض میں ’’حسن بن محمد نوفلی‘‘ کا نام آتا ہے جنہیں نجاشی نے قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ثقہ اور جلیل القدر ہیں اور انہوں نے امام رضا(ع) سے ایک رسالہ روایت کیا ہے جس سے مراد رسالہ ذہبیہ ہے ۔
اس کے علاوہ مختلف ادوار میں اس رسالہ کی دانشوروں میں شہرت اور امام رضا علیہ السلام سے منسوب پر اجماع اور کسی بھی شخص کی جانب سے انتساب پر کوئی اعتراض نہ ہونا ایسے دلائل ہیں جو محققین کو اطمینان دیتے ہیں کہ یہ رسالہ امام رضا(ع) ہی کی عطا ہے ۔
طب کے میدان میں ایک جامع اثر
جنانچہ یہ رسالہ امام رضا(ع) کے قیمتی علمی اور طبی بیانات کا مجموعہ ہے جس میں غذاؤں اور مشروبات کی خصوصیات بیان ہوئی ہیں اور انسان کی فلاح و بہبود اور حفظان صحت کے سلسلے میں صحیح راہنمائی کی ہے ا س کے علاوہ اس کتاب یا رسالہ میں بیماریوں اور نفسانی و روحانی تکالیف سے نمٹنے سے متعلق بھی بحث و گفتگو کی گئی ہے ۔
اس رسالے میں مختصر طور پر طب کی مختلف شاخوں جیسے علم تشریح، حیاتیات، وظائف الاعضاء،علم الامراض اور حفظان صحت وغیرہ شامل ہیں،
.
ملک قومی لائبریری کے قلمی خزانے میں پائے جانے والی قلمی نسخوں کا تعارف
نیشنل ملک لائبریری اینڈ میوزیم میں رسالہ ذھبیہ کے کم سے کم 17 قلمی نسخے موجود ہیں جن میں اس رسالے کے تمام یا منتخب حصے ، اس کے فارسی ترجمے ،شرحیں یا دیباچے وغیرہ شامل ہیں۔
نیشنل ملک لائبریری میں پائے جانے والے تمام آثار’’ترجمہ ذہبیہ یا رسالہ حضرت رضا(ع)‘‘، ’’طب الرضا(ع) یا ذھبیہ‘‘،’’ترجمہ طب الرضا(ع) یا تحف الرضا(ع) یا کنز الذھب‘‘ وغیرہ کے عناوین سے موجود ہیں ، ان تمام کتابوں کا تعلق صفویہ اور قاجاریہ دور سے ہے ۔
غلام حسین بن علی یزدی کا ترجمہ ذھبیہ یا طب الرضا(ع)نمبر1707 کے ساتھ اسی لائبریری میں موجود ہے ، یہ نسخہ 1300 ہجری شمسی میں خط شکستہ نستعلیق کے ساتھ ترمہ کاغذ کے اوپر تحریر کیا گیا ۔
اس کے علاوہ تیرہویں صدی ہجری میں تحریر کیا جانے والا نسخہ بھی اسی لائبریری میں موجود ہے ، اسی طرح محمد بن حسن طوسی مشہدی کا ترجمہ بھی اس لائبریری میں پایا جاتا ہے ۔
واضح رہے کہ یہ لائبریری تہران میں ، خیابان امام خمینی(رج)، خیابان سی تیر، خیابان یارجانی، خیابان ملل متحد(میدان مشق)، پر حاج حسین آقا ملک کی جانب سے حرم امام رضا(ع) کو وقف کی گئی۔