آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ کانفرنس حرم امام رضا(ع) کی مرکزی لائبریری کے قدس ہال میں منعقد کی گئی جس میں شہید آیت اللہ رئیسیؒ کی زوجہ محترمہ ڈاکٹر جمیلہ علم الہدیٰ،شہید کی حکومت کی کابینہ کے وزیر ثقافت و ارشاد محمد مہدی اسماعیلی اور حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے فاضل طلباء اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔
شہید رئیسیؒ کا طرز حکومت کے عنوان سے منعقدہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے سکریٹری جنرل نے تفصلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ شہید آیت اللہ رئیسیؒ کے طرز حکومت اور سیرت کو محض ایک کتاب اورانہیں یاد کرنے کے موقع کی شکل دینے کی بجائے ملک کے حال اور مستقبل اور کے لئے ایک پائیدار ماڈل میں تبدیل کیا جا سکے۔
جناب میثم لطفی نے گذشتہ سال حرم امام رضا(ع) میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یہ دوسری کانفرنس شہید رئیسی بین الاقوامی فاؤنڈیشن اور شہید رئیسی گورننس اینڈ اسٹیٹ کرافٹ تھنک ٹینک کے تعاون سے منعقد کی گئی ہے ، اس میں ہماری کوشش یہ تھی کہ شہید آیت اللہ رئیسی کی شخصیت کے علمی اور دقیق پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تاکہ یہ کانفرنس محض یادیں تازہ کرنے تک محدود نہ رہے۔
جناب لطفی نے بتایا کہ رہبرِ معظم انقلاب اور خود شہید رئیسی ؒکی تاکید رہی ہے کہ محض تجربات اور واقعات سے بڑھ کر عملی ماڈلز کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ اس کانفرنس اور آئندہ منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں ہمارا مقصد ‘اسلامی انقلاب کے معیار کے مطابق حکمرانی کا ماڈل’ تشکیل دینا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اس طرزِ حکمرانی کو ملک کے حال اور مستقبل کے لیے ایک اصول بنا سکیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا اعلان گذشتہ سال موسم سرما میں کیا تھا، اگرچہ بعض حالات کی وجہ سے مقالات کی وصولی میں مشکلات پیش آئیں ، تاہم متعدد مقالات موصول ہوئے اور ان کا جائزہ بھی لیا گیا، اس کانفرنس کےساتھ پانچ نشستیں بھی منعقد کی گئيں اور آج اس کانفرنس کا اختتامی دن ہے ۔
اس بین الاقوامی کانفرنس کے سکریٹری کا کہنا تھا کہ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ شہید رئیسیؒ کی تین سالہ حکومت کے کامیاب تجربے کی بنیاد پر اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو ملک کے بہت سے معاشی اور دیگر مسائل کے حل ہونے کی امید تھی۔