آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ’’ماہ رمضان کی جنگ کے بین الاقوامی پہلو اور حوزہ ہائے علمیہ کی ترجیحات‘‘ کے عنوان سے مؤرخہ 4 مئی2026 بروز سوموار کومدرسہ عالمی فقاہت عالم آل محمد(ع)میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی نے کہا کہ ماہ رمضان میں شروع ہونے والی جنگ دو ادوار کے درمیان ایک تاریخی سرحد بن گئی ہے اس جنگ سے دنیا کے سیاسی ، مذہبی اور تہذیبی ڈھانچے تبدیل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مشرق وسطیٰ میں قدرت و طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اوربالادستی والے نظام کے زوال کی نشانیاں خلیج فارس سے لے کر محورِ استقامت تک نمایاں ہو چکی ہیں۔
خلیج فارس؛ انحصار سے علیحدگی کی طرف
حوزہ ہائے علمیہ کے ادارہ بین الاقوامی امور کے معاون نے خلیج فارس میں ہونے والی اسٹریٹجک تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک امریکی انحصار سے نکل چکے ہیں اور واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات ور قطر جیسے ممالک کی معیشت شدید متاثر ہوئی اور ان ممالک سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کو بصیرت و حکمت کے ساتھ پائیدار اقتصادی تعاون کی طرف لے جایا جائے تو نئی اسلامی تہذیب کی بنیادیں استوار کی جا سکتی ہیں یہ وہ موضوع ہے جس پر رہبر معظم انقلاب( مدّ ظلہ العالی) نے بھی اپنی تقاریر میں زور دیا ہے ۔
امریکی طاقت کا زوال اور استقامتی محاذ کا عروج
حجت الاسلام حسینی نے امریکہ کے بدلتے ہوئے نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں بالادستی کے مرحلے سے گزرچکا ہے اس کی طاقت زوال پذیر ہے اس کے مدّ مقابل ایران ،عراق، یمن اور لبنان کے مقاومتی محاذ کے مابین عملی یکجہتی سے اسے استحکام ملا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جنگ رمضان فقط فوجی جنگی نظام تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اقتصاد، ذرائع ابلاغ اورمعرفتی میدانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے ، لہذا حوزہ ہائے علمیہ کو اس نئے مرحلے میں اسلامی تہذیب کی تشکیل کے لئے فکری اور گفتگو کی سطح پر فعال موجودگی کے لئے تیار ہونا چاہئے۔